ہم نے اس مارکیٹ کا دورہ کیا اور یہ دیکھا کہ ہوم ڈیکور کی دنیا میں روایتی اور نازک وال پیپرز کا دور اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور ان کی جگہ جدید واٹر پروف فیبرک شیٹس اور سستی میڈیا والز نے لے لی ہے۔ مارکیٹ میں عام طور پر لوگ لکڑی یا ایکریلک شیٹس کی مدد سے میڈیا وال بنوانے کے لیے 35 ہزار سے 70 ہزار روپے تک کا خطیر بجٹ خرچ کر دیتے ہیں، مگر ہم نے گراؤنڈ پر جا کر معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ یو وی (UV) ماربل شیٹس اور ڈبلیو پی سی (WPC) طرز کے تھری ڈی پینلز کے ذریعے وہی لگژری ڈیزائن صرف 9 ہزار روپے کے پیکیج میں بہ آسانی تیار ہو رہا ہے۔ فیلڈ وزٹ کے دوران ہم نے پایا کہ گاہکوں کی ایک بڑی تعداد دیواروں کی نمی، سیم اور پپڑی بن کر جھڑنے والے وال پیپرز سے سخت پریشان تھی۔ تاہم درآمد شدہ واٹر پروف شیٹس اور پیل اینڈ اسٹک (Peel & Stick) پینلز نے کم بجٹ والے صارفین کو اپنے ڈرائنگ روم اور ٹی وی لاؤنج کا نقشہ سستے داموں بدلنے کا ایک بہترین اور پرکشش موقع فراہم کر دیا ہے۔
معیار کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے دوران ہم نے دیکھا کہ مارکیٹ میں سستے اور ہلکے شاپر نما مٹیریل کی بھرمار ہے جو گاہک کو گمراہ کر سکتی ہے۔ اصل اور پائیدار یو وی شیٹ کی پہچان اس کی 3 ملی میٹر موٹائی، 8K ہائی ڈیفینیشن ٹیکسچر، اور پیچھے موجود مضبوط گوند (Adhesive) سے ہوتی ہے جو بغیر کسی اضافی گم یا کیلوں کے دیوار پر چپک جاتی ہے۔ اسی طرح دیواروں کی سیپج چھپانے کے لیے عام پیپر وال پیپر کے بجائے پیچھے چھوٹے دانوں (Grains) والی درآمد شدہ فیبرک شیٹس دستیاب ہیں؛ جب ہم نے تجرباتی طور پر ان پر پانی اور چائے کا داغ ڈالا تو مائع اندر جذب ہونے کے بجائے اوپر ہی ٹھہر گیا اور عام سرف والے گیلے کپڑے سے رگڑنے پر داغ فوری صاف ہو گیا، جبکہ عام کاغذ کے وال پیپرز چند سیکنڈ میں گل کر پھٹ گئے۔ قیمتوں کے تقابل میں ہول سیل اور ریٹیل میں زمین آسمان کا فرق دیکھا گیا؛ جہاں ایک کمرے پر روایتی وال پیپر اور مزدوری کا خرچہ 35 سے 40 ہزار روپے بنتا ہے، وہیں ہول سیل مارکیٹ سے واٹر پروف فیبرک شیٹس کے دو رولز کے ذریعے پورا 10×12 کا کمرہ مزدوری سمیت محض 14 ہزار روپے کے اندر مکمل ہو جاتا ہے۔
مارکیٹ میں خریداری کرتے وقت خریداروں کو چند تکنیکی باتوں کا خاص دھیان رکھنا چاہیے۔ اگر آپ میڈیا وال بنوا رہے ہیں تو یہ ہمیشہ بالکل سیدھی، صاف اور سوکھی دیوار پر لگوائیں، کیونکہ الیکٹرانکس اور ٹی وی کے پیچھے سیم والی دیوار پر یو وی شیٹ کی گرفت پائیدار نہیں رہتی۔ اس کے برعکس اگر دیواروں پر پرانی نمی اور سیم کا مسئلہ ہو تو وال پیپر بالکل نہ خریدیں بلکہ صرف بیک گرینز والی نان سی-تھرو (Non-See-Through) فیبرک شیٹ کا انتخاب کریں تاکہ پیچھے کی کالی دیوار نظر نہ آئے۔ اس خریداری کا مثبت پہلو (Pros) یہ ہے کہ یہ پینلز ہیٹ ریزیViewerسٹنٹ، یو وی پروٹیکٹڈ اور واش ایبل ہیں، اور خواتین بھی بنا کاریگر کے خرچے کے اسے خود پیل آف کر کے چپکا سکتی ہیں۔ جبکہ منفی پہلو (Cons) یہ ہے کہ مارکیٹ میں ڈیڑھ ایم ایم (1.5mm) کے انتہائی باریک لوکل مٹیریل کو بھی امپورٹڈ کہہ کر بیچا جا رہا ہے جو تیز کھینچنے پر پھٹ جاتا ہے، اس لیے مٹیریل کی تھکنس اور ڈینسٹی خود ہاتھ لگا کر چیک کرنا ضروری ہے۔ مزید تکنیکی معلومات یا بکنگ کے لیے دکان سے فون نمبر 0318-1651369 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ہماری حتمی رائے اور مارکیٹ جائزے کے مطابق، موجودہ مہنگائی کے دور میں ڈیکوریشن کے روایتی مہنگے طریقوں کے مقابلے میں یہ نئی فیبرک شیٹس اور بجٹ میڈیا وال ایک انقلابی اور انتہائی کفایت شعار حل ہیں۔ یہ نہ صرف آپ کے لاکھوں روپے کے گھر کو کروڑوں کا لُک دیتی ہیں بلکہ برسوں تک نمی اور داغ دھبوں سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ اس لیے بنا سوچے سمجھے مہنگے ایکریلک یا کاغذ کے وال پیپر پر رقم ضائع کرنے کے بجائے صحیح پیمائش اور ہائی گریڈ مٹیریل کی تصدیق کر کے ہول سیل ریٹس پر یہ جدید شیٹس خریدنا ہی سب سے دانشمندانہ اور پیسہ وصول فیصلہ ہے۔

تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔