آج کے اس شدید مہنگائی اور معاشی بحران کے دور میں جہاں بجلی کے بھاری بلوں نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے، وہاں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہیں اور فیک نیوز (Fake News) غریب اور سفید پوش طبقے کو مزید ذہنی اذیت اور مالی نقصان کے خوف میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک مبینہ نوٹس تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں یہ خوفناک دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی پروٹیکٹڈ صارف کسی ایک مہینے میں بھی غلطی سے 200 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کر لے، تو اس کی پروٹیکٹڈ سہولت ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائے گی۔ اس خبر نے پورے ملک کے گھریلو صارفین میں سنسنی اور خوف کی لہر دوڑا دی تھی، کیونکہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری ختم ہونے کا مطلب بل میں ہزاروں روپے کا فوری اور مستقل اضافہ ہے۔ “سستا بول” ہمیشہ کی طرح عوام کو گمراہ کن معلومات سے بچانے اور سچی خبر پہنچانے کے اپنے مخلصانہ مشن کے تحت اس وائرل نوٹس کی اصل حقیقت سامنے لے کر آیا ہے۔

عوام کی شدید پریشانی کو دیکھتے ہوئے کے الیکٹرک نے اس معاملے پر فوری اور باقاعدہ وضاحت جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کو سراسر گمراہ کن اور جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق حکومت یا ادارے کی جانب سے پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی شرائط اور پالیسیوں میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کا اسٹیٹس ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ واٹس ایپ یا فیس بک پر پھیلنے والے غیر مصدقہ نوٹسز پر یقین کر کے پریشان نہ ہوں، بلکہ بجلی کے بلوں اور حکومتی رعایتوں سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات صرف اور صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔
ترجمان کے الیکٹرک نے اصل قانون کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی اہل نان ٹی او یو (Non-TOU) رہائشی صارف کسی ایک مہینے میں 200 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کر بھی لیتا ہے، تو اس کا پروٹیکٹڈ اسٹیٹس عارضی طور پر تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتا۔ قانون کے مطابق اگر وہی صارف بعد میں دوبارہ مسلسل 6 مہینوں تک اپنے ماہانہ یونٹس 200 یا اس سے کم رکھے، تو اس کا سستا پروٹیکٹڈ اسٹیٹس خود بخود دوبارہ بحال کر دیا جاتا ہے۔ سستا بول اپنے تمام قارئین کو یہ مخلصانہ مشورہ دیتا ہے کہ اس شدید گرمی اور مہنگائی میں بجلی کا استعمال احتیاط سے کریں تاکہ بل کم آئے اور کسی بھی افواہ پر کان دھرنے کے بجائے اس سچی اور وضاحتی خبر کو اپنے دوستوں اور فیملی گروپس میں ضرور شیئر کریں تاکہ ہر کوئی پریشانی اور افواہوں کے نقصان سے بچ سکے۔

تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔