saleem shah June 11, 2026 15 0

ملکی معیشت میں بہتری اور فیفا ورلڈ کپ میں پاکستانی فٹبال کا اعزاز

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا ہے۔ اقتصادی سروے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے ملکی معیشت کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز، شرح نمو میں اضافے اور مختلف شعبوں کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ سروے پورے مالی سال کی معاشی کارکردگی کا آئینہ دار ہے، جس میں حکومت کی انتھک کوششوں کے باعث معیشت استحکام کی طرف گامزن نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

📈 معاشی ترقی کی شرح اور جی ڈی پی (GDP Growth)

وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی سال کے آغاز میں ملک کو شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا، جبکہ مون سون کی بارشوں نے بھی معیشت کو متاثر کیا۔ مزید برآں، امریکہ کی جانب سے عالمی سطح پر ٹیرف کے نفاذ اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے عالمی معیشتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی اثرات مرتب کیے۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود:

  • ملکی معیشت کی شرح نمو (Growth Rate) 3.7 فیصد رہی۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال خراب نہ ہوتی تو یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کر جاتی۔
  • پاکستانی معیشت کا کل حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا ہے۔
  • عوام کی فی کس اوسط سالانہ آمدن 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو چکی ہے۔

⚽ کھیل اور آئی ٹی کی برآمدات میں تاریخی اضافہ

سروے کی سب سے بڑی اور خوش آئند خبر کھیلوں کے شعبے سے سامنے آئی۔ وزیر خزانہ نے فخر سے اس بات کا اعلان کیا کہ اللّٰہ کے فضل و کرم سے آنے والے فٹبال ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹبال استعمال ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ:

  • پاکستان کی اسپورٹس برآمدات (Sports Exports) 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
  • اس کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کے شعبے میں بھی زبردست ترقی دیکھی گئی ہے اور آئی ٹی برآمدات جلد 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

🌾 زراعت، پٹرولیم اور زرمبادلہ کے ذخائر

معیشت کے دیگر اہم شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر مثبت رہا۔

  • زرعی شعبہ: زراعت کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، جس میں لائیو اسٹاک اور ڈیری سیکٹر کا حصہ 60 فیصد ہے۔
  • پٹرولیم سیکٹر: پٹرولیم کے شعبے میں 5 فیصد کی گروتھ ریکارڈ کی گئی۔
  • زرمبادلہ کے ذخائر: اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر ہیں، جو رواں ماہ (جون) کے آخر تک 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ بیرونی بحرانوں کے باوجود حکومت معاشی استحکام لانے میں کامیاب رہی ہے اور اب درآمدات (Imports) میں کمی لانا اور ملکی برآمدات کو بڑھانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

🏷️

تبصرے

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں